15 ستمبر 2026 - 09:09
یمن کی آخری لڑائی - 2 + تصاویر

نام نہاد سعودی اتحاد نے یمنیوں کو، 11 سال قبل جنگ کے آغاز پر بھی اور حالیہ مہینوں مین بھی، ایک دو راہے پر کھڑا کیا: یا تو ریاض کی کٹھ پتلی حکومت بننے اور یمن پر آل سعود کی بالادستی قبول کریں یا اپنی عزت و عظمت اور خودمختاری کا تحفظ کریں۔ اور یمنی قوم نے دوسرا راستہ چنا جو مزاحمت سے عزت و عظمت کی بقا کا راستہ تھا اوربالآخر وہ مکمل فتح کے حصول کے راستے پر گامزن ہیں؛ ان شاء اللہ۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) یمنی قوم کی سعودی اتحاد پر بڑی فتوحات نے ـ فریقین کے ہتھیاروں کے عدم توازن کے باوجود ـ دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ لیکن صرف یمنی بھائیوں کی اقتصادی کمزوری پر توجہ مرکوز کرنا، ـ نہ صرف ان کی قیمتی فتوحات کو نمایاں نہیں کرتا، بلکہ درست حکمت عملی کے طریقے، جدید منصوبے اور غیر متوازن جنگ (Asymmetric Warfare) میں ان کی عملی کارکردگی، مکمل معلوماتی برتری اور بہت عمدہ اور ناقابلِ رسائی معلوماتی حفاظت (Information Security)، بڑی اقتصادی مصیبتوں کے باوجود اندرونی حالات کے مناسب انتظام و انصرام، ایک دہائی سے زیادہ پابندیوں اور محاصرے کے باوجود گولہ بارود، ڈرونز، میزائل اور حیرت انگیز فوجی سامان کی تیاری اور انصاراللہ کی اندرونی طاقت کو نادانستہ فراموشی کے سپرد کر دیتا ہے۔ ہاں! مگر یہ سچ ہے کہ یمنیوں کے ایمان کی طاقت سعودیوں کی مادی طاقت پر غالب آ گئی لیکن صرف اسی بات کا ذکر کرنا اور اسی پر مرتکز ہوکر خود ہی، یمنیوں کی کامیابیوں کو نظر انداز کرنا نہیں چاہئے۔

یمن کی آخری لڑائی - 2 + تصاویر

دوسری اور آخری قسط:

5۔ انصاراللہ کے قائدین امام مسلمین حضرت آیت اللہ العظمیٰ امامِ شہید سید علی حسینی خامنہ ای (قَدَّسَ اللہُ نَفسَہُ الزَّکِیۃَ) کی تاریخی تشییع جنازہ میں شرکت کے لئے تہران آئے اور جب وہ واپس جا رہے تھے تو سعودی حکومت نے تو سعودیوں نے طیارے کو صنعاء میں اترنے کی اجازت نہیں دی اور طیارے کے لئے رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور اسے گرانے کی دھمکیاں دیں۔ یہ سعودی اقدام طیارے کے ایرانی پائلٹ کی بہادری سے ناکام ہوئی، اور یوں جنگ بندی کا سمجھوتہ خود بخود ختم ہو گیا اور صنعا حکومت نے ریاض کو الٹی میٹم دیا کہ محاصرہ ختم کر دے لیکن جب آل سعود نے توجہ نہیں دی تو 13 جولائی کو ـ یعنی ٹھیک دو ماہ قبل۔ ـ  صنعاء نے "محاصرے کے بدلے محاصرہ" کی حکمت عملی کا اعلان کیا اور سعودی تیل لے جانے والے بحری جہازوں پر باب المندب کی اسٹراٹیجک آبنائے باب المندب کو بند کر کے اس کو عملی جامہ پہنایا۔

یمن کی آخری لڑائی - 2 + تصاویر

انصاراللہ نے بعدازاں سعودی اور اماراتی اجرتیوں کے زیر قبضہ یمنی علاقوں کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری طرف، یمن کے 11 سالہ محاصرے کی وجہ سے اس ملک کی معیشت بہت کمزور ہو گئی ہے اور عملی طور پر ہر طرف سے سمندری، ہوائی اور زمینی محاصرے کی وجہ سے درآمدات و برآمدات بہت محدود ہیں۔

انصاراللہ نے سعودی معیشت پر دباؤ ڈالنے کے لئے "ینبع" کی بندرگاہ اور آرامکو تیل کمپنی پر حملے کئے جس کی وجہ سے ریاض کی تیل کی پیداوار اور برآمد میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اب سعودی رجیم کے پاس تیل برآمد کرنے کے لئے نہ آبنائے ہرمز ہے نہ باب المندب! حالیہ دنوں میں یمن کی فوج اور انصاراللہ کے مجاہدین کئی اسٹراٹیجک مقامات کو سعودی قبضے سے پاک کرنے میں کامیاب ہوئے اور آبنائے باب المندب کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

یمن کی آخری لڑائی - 2 + تصاویر

6۔ انصاراللہ کے قائدین کو کو لے جانے والے طیارے کو اترنے سے روکنے کی سعودی کوشش اور پائلٹ اور طیارے کو دھمکی دینا، واشنگٹن کی ترغیب و تحریک کا نتیجہ تھا؛ لیکن اب سعودی ولی عہد کی امریکی رجیم کے دہشت گرد سربراہ سے دو بار رابطے کے باوجود، اس نے جنگ میں داخل ہونے اور سعودی عرب کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے!

بنیادی طور پر 2015 میں بھی اور دو ماہ قبل بھی، سعودیوں نے یمن کے خلاف دو جنگیں شروع کیں تاکہ خود کو اور مغربی دنیا کو انصاراللہ کی موجودگی کے ڈراؤنے خواب سے نجات دلائیں لیکن خدا کے فضل و کرم سے نتیجہ وہ نہ ہؤا جو سعودی حکمران امریکیوں، یورپیوں اور اسرائیلیوں کی خاطر کرنا چاہتا تھا۔

یمن کی آخری لڑائی - 2 + تصاویر

نام نہاد سعودی اتحاد نے یمنیوں کو، 11 سال قبل جنگ کے آغاز پر بھی اور حالیہ مہینوں مین بھی، ایک دو راہے پر کھڑا کیا: یا تو ریاض کی کٹھ پتلی حکومت بننے اور یمن پر آل سعود کی بالادستی قبول کریں یا اپنی عزت و عظمت اور خودمختاری کا تحفظ کریں۔ اور یمنی قوم نے دوسرا راستہ چنا جو مزاحمت سے عزت و عظمت کی بقا کا راستہ تھا اوربالآخر وہ مکمل فتح کے حصول کے راستے پر گامزن ہیں؛ ان شاء اللہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: سارا ہوشمندی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha